مجھے ایک کسٹمر نے کال کی اسے جو چیز چاہیے تھی، آرڈر کردی۔ میں چوں کہ اس وقت ڈرائیونگ کر رہا تھا لہٰذا اس
آرڈر کو نوٹ نہیں کر سکا اور یہی سوچا کہ جب گاڑی پارک کروں گا تو نوٹ کر لوں گا۔ مگر گاڑی پارک کرنے بعد میں کچھ دوسرے کاموں میں الجھ گیا اور نوٹ کرنا بھول گیا۔ دوسرے دن اسی کسٹمر نے پھر کال کی اور اپنے آرڈر کا پوچھا۔ میں نے کہا، سوری میں تو بھول گیا تھا۔ پھر آپ نے بھی نہ یاد دلایا اور نہ دوبارہ فون کیا۔ کسٹمر ناراض ہوگیا اور کہنے لگا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہم ایک کام کے لیے دو تین بار فون کریں، یاد رکھنا یا نوٹ کرنا آپ کی ذمہ داری تھی۔ کسٹمر نے ناراض ہو کر آرڈر کینسل کیا اور کسی اور سپلائر سے سامان لے لیا۔
یہ ایک فرضی کہانی تھی مگر ہم میں سے اکثر لوگوں کے ساتھ حقیقت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ انسانوں کے کام ایک دوسرے سے ہی پڑتے ہیں۔ ایک شخص یا تو کسی کو اپنا کوئی کام کہتا ہے یا پھر وہ کسی دوسرے کے کہے ہوئے کام کو کر رہا ہوتا ہے۔ بس یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جن میں ہمارا تمام وقت صرف ہوتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر، آج کی مصروف زندگی کی وجہ سے کام بھول جاتے ہیں اور اسی کام میں لگ جاتے ہیں جس کے بارے میں کوئی پوچھتا رہے۔ اسی چیز کو فالواپ کہا جاتا ہے۔
یہاں یو اے ای میں اکثتر دفاتر میں فلپائنی لڑکیاں سیکریٹری ہوتی ہیں۔ میں نے اس قوم سے زیادہ مستعدی کے ساتھ فالواپ کرتے کسی کو نہیں دیکھا ہے۔ اگر انہوں نے آپ کو کوئی کام بول دیا ہے تو بس سمجھیں اب آپ کی زندگی حرام۔ دس بار فون کریں گی۔ ہمارے کام کا کیا ہوا، آپ کب آ رہے ہیں، کہاں پنہچے۔ ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اب کتنی دور رہ گئے۔ غرض یہ کہ ان کے بہترین فالواپ کی وجہ سے میں بھی چوکنا رہتا ہوں۔
ہم نےسب نے بھی فالواپ کا لفظ بہت سن رکھا ہے مگر شاید چند لوگ ہی اس کی اہمیت سے واقف ہوں۔ ہماری زندگی کے ذاتی امور میں تو اس کی اہمیت ہے ہی مگر اپنے معاشی امور اور کاروباری زندگی میں یہ چھوٹا سا کام ریڑھ ی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ فالو اپ کا عمل پروڈکٹوٹی، کام کے معیار اور خدمات کے معیار کو لازوال عروج بخش دیتا ہے۔ چیزیں وقت پر اور مطلوبہ میعار کے مطابق ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فالو اپ کیسے کیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کو کام تفویض کرتے ہوئے یا بولتے وقت کوشش کرنی چاہیے کہ اس نے وہ کام کہیں نوٹ کر لیا ہے؟ اگر نہیں کیا تو آپ خود ہی اس کو ایک چٹ پر لکھ کر دے دیں۔ پھر فالو اپ کا ایک سافٹ اور مہذب طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی خٰود ہی ان سے بوچھ لے کہ میں اس کام کے لیے آپ کو کب دوبارہ یاد کرواؤں؟ تو وہ خود ہی آپ کو بتا دے گا کہ فلاں وقت یاد کروائیے۔ پھر عین اسی وقت آپ نے اسے وہ کام فون کرکے یا قریب ہو تو ملاقات کرکے یاد کروانا ہے۔ مجھے یہاں وزٹ پر آئے نوجوان کا فالواپ کا انداز بہت پسند تھا۔ وہ بہت اچھا فالواپ کرنے والا فرد ہے۔ اس کو نوکری کی تلاش تھی۔ مجھ سے بھی اس نے مدد مانگی۔ میں نے کہا کہ سردست تو میرے علم میں کوئی جاب نہیں ہے مگر ہفتہ کے فلاں دن، فلاں وقت پر میں فلاں جگہ ایک میٹنگ میں جا رہا ہوں تو وہاں دوستوں سے تمہارا تذکرہ کروں گا۔
وہ مطمئن ہو کر چلا گیا، جب کہ میں اس کا کام بھول چکا تھا۔ میں مقررہ دن اور وقت پر جب میٹنگ میں شریک تھا، عین اس دوران اس کا میسج میرے موبائل پر آیا کہ میرا کام یاد رکھیے گا۔ مجھے بڑی خوشی، حیرت اور رشک ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ اگر فالواپ کسی چیز کا نام ہے تو وہ یہی ہے۔
آج کی دنیا بڑی گنجلک بن چکی ہے۔ انسان بھی صبح سے شام تک کولھو کے بیل کی طرح پیٹ کا جھنم ٹھنڈا کرنے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ہر ایک ہر وقت کسی نہ کسی کام میں لگا ہوا ہے۔ مگر وہ اسی کا کام کر رہا ہوتا ہے جو اس کے سر پر سوار ہو۔
کہتے ہیں کہ ماں بھی اسی بچے کو دودھ پلاتی ہے جو روتا ہے (یعنی فالواپ کرتا ہے

0 comments:
Post a Comment